مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی شب جاری بیان میں محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ محاصرہ اور کشیدگی برقرار رہی تو امریکی بحری جہازوں اور فوجی اہلکاروں کو سنگین خطرات اور ممکنہ جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کرے، کیونکہ ایران موجودہ صورتحال کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
محسن رضائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم آبنائے ہرمز میں کسی دوسرے کوریڈور یا متبادل بحری راستے کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس حوالے سے پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات سمندری سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ